(A T.N)
گھوسی لوک سبھا کے رکن راجیو رائے کو پارلیمنٹ کی انتہائی اہم "کمیٹی آن پبلک انڈرٹیکنگز” کا بلامقابلہ رکن منتخب کر لیا گیا۔
گھوسی لوک سبھا حلقے کے لیے یہ فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ مقبول رکن پارلیمنٹ معزز جناب راجیو رائے جی کو لوک سبھا کی انتہائی اہم اور بااثر کمیٹی "Committee on Public Undertakings (2026-27)” کا متفقہ طور پر بلامقابلہ رکن منتخب کیا گیا ہے۔
لوک سبھا سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری خط اور نوٹیفکیشن کے مطابق جناب راجیو رائے کو اس باوقار کمیٹی میں بطور رکن نامزد کیا گیا ہے۔
یہ کمیٹی ملک کے تمام 389 پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (PSUs) کے کاموں، مینجمنٹ، شفافیت، وسائل کے استعمال اور سرکاری اداروں کے کام کاج کا جائزہ لینے کی اہم ذمہ داری نبھاتی ہے۔ اس کا شمار پارلیمنٹ کی سب سے بااثر اور طاقتور کمیٹیوں میں ہوتا ہے۔
اس کمیٹی میں کل 22 ارکان ہوتے ہیں، جن میں 15 ارکان لوک سبھا اور 7 ارکان راجیہ سبھا سے شامل کیے جاتے ہیں۔ ایسے اہم پارلیمانی فورم پر گھوسی کے رکن پارلیمنٹ جناب راجیو رائے کا انتخاب پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر مانا جا رہا ہے۔
لوک سبھا سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ پروگرام کے مطابق کمیٹی کے آئندہ اجلاس نئی دہلی میں واقع کمیٹی روم میں منعقد ہوں گے، جن میں تمام 389 سرکاری اداروں سے متعلق مختلف قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال اور جائزہ لیا جائے گا۔
معزز رکن پارلیمنٹ جناب راجیو رائے جی کا یہ انتخاب ان کے پارلیمانی تجربے، عوامی مفاد کے مسائل پر سرگرمی، ایوان میں مؤثر شراکت اور عوام کے تئیں لگن کا ثبوت مانا جا رہا ہے۔ اس کامیابی پر گھوسی لوک سبھا کے عوام اور حامیوں میں خوشی اور جوش و خروش کا ماحول ہے۔
یہ کامیابی نہ صرف گھوسی لوک سبھا حلقہ بلکہ پورے پوروانچل کے وقار کو قومی سطح پر ایک نئی شناخت دلانے کا سبب مانی جا رہی ہے۔
