مئو ناتھ بھنجن(A.T.N)درخت زمین کا حسن، ماحول کی پاکیزگی اور انسانی زندگی کی بقا کا اہم ذریعہ ہیں۔ شجرکاری نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے، موسمی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی اور قدرتی توازن کے قیام میں معاون ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ بھی ہے۔ اسلام نے بھی درخت لگانے اور زمین کو آباد کرنے کی خصوصی ترغیب دی ہے اور اسے اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
اسی جذبۂ خیر کے تحت 5 جون، عالمی یومِ ماحولیات (World Environment Day) کے موقع پر سمر اسلامک آرگنائزیشن ٹرسٹ مرزاہادی پورہ مئو کی جانب سے شجرکاری مہم کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد پودے اور درخت لگا کر ماحولیات کے تحفظ اور سرسبز و شاداب معاشرے کے قیام کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
واضح رہے کہ عالمی یومِ ماحولیات ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 1972ء میں منعقدہ اسٹاک ہوم کانفرنس کے بعد اس دن کے انعقاد کا فیصلہ کیا، جبکہ پہلی مرتبہ یہ دن 1974ء میں "Only One Earth” (صرف ایک زمین) کے عنوان کے تحت منایا گیا۔ اس دن کا مقصد عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنا اور زمین کو درپیش خطرات کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کی ترغیب دینا ہے۔
اسلام نے چودہ سو سال قبل ہی ماحولیات کے تحفظ کی تعلیم دی۔ قرآنِ کریم میں زمین میں فساد پھیلانے سے منع کیا گیا ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی امانت یعنی زمین کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے شجرکاری کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے، پھر اس میں سے کوئی انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔” (صحیح بخاری)
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ درخت لگانا صرف ایک سماجی خدمت نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت اور صدقۂ جاریہ بھی ہے، جس کا ثواب انسان کو مسلسل ملتا رہتا ہے۔
اس موقع پر سمر اسلامک آرگنائزیشن ٹرسٹ مرزاہادی پورہ مئو کے کنوینر حافظ محمد اجمل صاحب، حافظ فیضان انصاری صاحب، مولانا عاطف افضل صاحب، حافظ حمود سہیل صاحب، حافظ بلال خلیل صاحب، حافظ خبیب اسعدصاحب اور مولانا عبدالعزیز ابن سعد صاحب مباسل فوزان سمیت دیگر ذمہ داران و اراکین موجود رہے۔ تمام شرکاء نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، ان کی حفاظت کریں اور اپنے ماحول کو صاف، سرسبز اور خوشگوار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم ایک درخت ضرور لگائیں گے، کیونکہ آج کا لگایا ہوا پودا کل کی نسلوں کے لیے زندگی، صحت اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔