پرائمری اسکولوں اور مدارس میں طفل دوست کتب خانے کا فروغ
ترجمہ از قلم
ڈاکٹر منظر کمال (لکچرار)
ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ڈائٹ)
غازی پور، یوپی
تعلیم کے میدان میں ہونے والی تحقیق اور مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ سمجھ کے ساتھ مطالعہ کرنا اور کتابوں میں دلچسپی پیدا ہونا بچوں کے لیے پڑھنے کے عمل کو خوشگوار اور لطف اندوز بنا دیتا ہے۔ بچوں کو خود مختار قاری بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اسکول و مدرسہ میں احتیاط سے منتخب کی گئی ایسی کتابوں کے مجموعے سے روشناس کرایا جائے جو ان میں مطالعے کی مہارت کے ساتھ ساتھ منطقی سوچ، تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے سکے۔

اسکول و مدرسہ میں طفل دوست کتب خانے سے مراد بچوں کے ادب کا ایسا ذخیرہ ہے جو بچوں کی عمر، مطالعے کی سطح اور دلچسپی کے مطابق ہو اور مختلف اصناف و صورتوں میں دستیاب ہو، تاکہ بچوں میں مطالعے کی مہارت اور پڑھنے کی عادت کو فروغ مل سکے۔ نِپُن بھارت مشن کے تحت بھی اسی نوعیت کے ایف ایل این (FLN) کتب خانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ بنیادی خواندگی کے ہدف کو بچوں کے معیاری ادب کی دستیابی کے بغیر حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ لہٰذا ہر اسکول و مدرسہ میں بچوں کے معیاری ادب کی فراہمی اور بچوں کی اس تک رسائی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔پرائمری اسکولوں و مدرسوں میں کتب خانے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:
۱۔جماعتی کمرے میں ریڈنگ کارنر یا طفل دوست کتب خانہ
۲۔علیحدہ کتب خانہ کمرہ
1۔ جماعتی کتب خانہ یا مطالعہ گوشہ (Classroom Library or Reading Corner)

اگر اسکول و مدرسہ میں اضافی کمرہ دستیاب نہ ہو تو ہر جماعت کے کسی کونے میں ریڈنگ کارنر یا چھوٹا سا کتب خانہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں بچوں کی دلچسپی اور مطالعے کی سطح کے مطابق کتابیں نمایاں طور پر رکھی جائیں تاکہ بچے اپنی سہولت کے مطابق ان سے استفادہ کر سکیں۔ بچوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے کتابوں کو وقفے وقفے سے تبدیل کرنا ضروری ہے۔
اس ضمن میں درج ذیل امور کا خیال رکھا جائے:
۱۔ ریڈنگ کارنر کی تشکیل میں بچوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کتابوں کی دیکھ بھال اور لین دین کی ذمہ داری محسوس کریں۔
۲۔ کتابوں کی نمائش کے لیے کھلی الماری، جوٹ یا کپڑے کے تھیلے استعمال کیے جائیں۔ اگر یہ بھی میسر نہ ہوں تو رسی کے ذریعے بھی کتابیں آویزاں کی جا سکتی ہیں۔ کتابیں ایسی جگہ رکھی جائیں جہاں وہ محفوظ بھی رہیں اور بچوں کی آسان رسائی میں بھی ہوں۔
۳۔ ریڈنگ کارنر میں کتابوں کا انتخاب بچوں کی مطالعہ جاتی سطح، دلچسپیوں اور مطالعے کے تنوع کے مطابق ہو۔
٤۔ کتابوں کے اجراء و واپسی (Check-in/Check-out) کے لیے رجسٹر رکھا جائے اور بچوں کو باقاعدگی سے کتابیں گھر لے جانے کی ترغیب دی جائے۔
۵۔ مختلف مطالعاتی سرگرمیوں کا باقاعدہ انعقاد کیا جائے اور بچوں کو آزادانہ مطالعے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
2۔ علیحدہ کتب خانہ کمرہ (Separate Library Room)
اگر اسکول و مدرسہ میں کافی کمرے موجود ہوں تو علیحدہ کتب خانہ قائم کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس سے نظام الاوقات کے مطابق مختلف مطالعاتی سرگرمیوں کا انعقاد آسان ہو جاتا ہے۔ یہاں موجود مطبوعاتی ماحول (Print-rich Environment) اور بچوں کی لکھی ہوئی نظمیں، کہانیاں اور تصاویر وغیرہ کی نمائش انہیں کتب خانے کی طرف راغب کرتی ہے۔ کتب خانہ ایسا ہونا چاہیے جو بچوں کو اپنی جانب متوجہ کرے اور انہیں اپنی پسند کی کتابیں پڑھنے کا موقع فراہم کرے۔
اس سلسلے میں درج ذیل نکات قابلِ توجہ ہیں:
۱۔ کتب خانہ جسمانی طور پر بچوں کے لیے محفوظ ہو اور اس میں کسی قسم کی ٹوٹ پھوٹ نہ ہو۔

۲۔ کتب خانے کو خوبصورت اور منظم بنانے کے لیے اس کی تزئین و آرائش کی جائے۔ دیواروں، کھڑکیوں اور دروازوں پر دلکش رنگ اور تصاویر بنائی جائیں۔مطبوعاتی مواد کی مناسب دستیابی ہو تاکہ بچے متوجہ ہوں۔ دیواروں پر کتابوں کے دلکش خاکے اور مطالعاتی مواد آویزاں کیا جائے۔۳۔ مرمت اور رنگ و روغن کے بعد کھلی الماریاں، جوٹ بیگ، بچوں کے بیٹھنے کے لیے دری اور مطالعہ میز کا انتظام کیا جا سکتا ہے تاکہ بچے آرام سے بیٹھ کر کتابیں پڑھ سکیں اور مختلف مطالعاتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ بچوں کے کام کی نمائش کے لیے پن بورڈ یا مقامی طور پر دستیاب وسائل استعمال کیے جا سکتے ہیں۔٤۔ کتب خانے کو پرکشش بنانے اور بچوں کو مطبوعہ مواد سے جوڑنے میں پرنٹ سے بھرپور ماحول نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے کتب خانے میں نظم، کہانی اور تصویری پوسٹر آویزاں کیے جائیں۔
۵۔ کتب خانے کے مؤثر انتظام کے لیے تین قسم کی رجسٹرز استعمال کی جا سکتی ہیں:
اسٹاک رجسٹر کتاب اجراء و واپسی رجسٹر (Check-in/Check-out Register)
مطالعاتی سرگرمیوں کا رجسٹر (Reading Activity Register)۔
