تعلیم کے نام پر فتنۂ ارتداد
عمیر مقتدیٰ
﴿وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾ (البقرۃ: 217) "اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے اور کفر ہی کی حالت میں مرے تو ایسے لوگوں کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو جائیں گے، اور وہ جہنم والے ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔”
کبھی ہمارے گھروں میں بچیوں کی تربیت قرآن کی روشنی میں ہوتی تھی، ان کی زبانوں پر تلاوتِ قرآن ہوتی تھی، ان کے دلوں میں اللہ کا خوف اور ان کی آنکھوں میں حیا کی چمک ہوتی تھی۔ مائیں اپنی بیٹیوں سے دین، نماز، پردہ اور اخلاق کے بارے میں سوال کرتی تھیں اور باپ ان کی دنیاوی کامیابی سے پہلے ان کے ایمان کی فکر کیا کرتے تھے۔ لیکن افسوس! آج حالات بڑی تیزی سے بدل چکے ہیں۔ اب والدین کی اکثریت کی نگاہیں صرف ڈگریوں، یونیورسٹیوں، کوچنگ سینٹروں، ملازمتوں اور روشن مستقبل پر مرکوز ہیں۔ بیٹی کی کامیابی کا معیار اس کے ایمان، حیا اور کردار کے بجائے اس کے نمبروں، ڈگریوں اور کیریئر کو بنا لیا گیا ہے۔ آج ماں اپنی بیٹی سے پوچھتی ہے کہ امتحان کیسا ہوا، کتنے نمبر آئے، اگلی کلاس کب ہے اور مستقبل کی کیا منصوبہ بندی ہے، لیکن شاید ہی کبھی یہ سوال کرتی ہو کہ بیٹی! آج تم نے قرآن سے کیا سیکھا؟ تمہارا ایمان کیسا ہے؟ تمہاری نمازوں کا کیا حال ہے؟ تم اللہ تعالیٰ کے کتنے قریب ہو؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تعلیم کے نام پر بہت سی بچیاں ایسے ماحول میں پہنچ رہی ہیں جہاں دین، حیا اور اسلامی شناخت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ کوچنگ، گروپ اسٹڈی، ہاسٹل اور آزاد ماحول کے نام پر ایسے دروازے کھل رہے ہیں جن کے ذریعے شیطان ایمان، حیا اور کردار پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ ہرگز یہ نہیں کہ تعلیم حاصل کرنا غلط ہے، بلکہ اسلام نے علم حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے، لیکن وہ تعلیم جو ایمان کو کمزور کر دے، حیا کو ختم کر دے اور دین سے دوری کا سبب بن جائے، وہ ترقی نہیں بلکہ تباہی کا راستہ ہے۔ آج بعض والدین فخر سے کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی فلاں یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے، فلاں شہر میں تعلیم حاصل کر رہی ہے اور بہت آگے بڑھ رہی ہے، لیکن وہ یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ کہیں یہ پیش رفت دین، حیا اور اسلامی تشخص سے دوری کی قیمت پر تو حاصل نہیں ہو رہی۔
دل خون کے آنسو روتا ہے جب مختلف شہروں سے یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ کسی مسلم لڑکی نے اپنا دین چھوڑ دیا، کسی نے غیر مسلم سے شادی کر لی، کسی نے اسلامی شناخت ترک کر دی اور کسی نے مغربی تہذیب کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا۔ یہ صرف چند خبریں نہیں بلکہ امت کی اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ یہ ان خوابوں کا انجام ہے جن میں صرف ڈاکٹر، انجینئر، افسر اور کامیاب پروفیشنل بننے کی خواہش تو تھی، لیکن ایک باحیا، دیندار اور باکردار مسلمان خاتون بنانے کی فکر نہیں تھی۔ آخر اگر ایمان باقی نہ رہے تو ڈگریاں، عہدے اور دنیاوی کامیابیاں قبر میں کس کام آئیں گی؟
ہمیں اپنی تاریخ کی عظیم خواتین کو یاد کرنا چاہیے۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے ایمان کی خاطر جان قربان کر دی لیکن دین سے دستبردار نہ ہوئیں۔ حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا نے میدانِ احد میں نبی ﷺ کے دفاع کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دیں۔ اسی طرح نبی ﷺ کی بیٹیاں اور صحابیات رضی اللہ عنہن کی زندگیاں حیا، وفا، قربانی اور استقامت پر قائم تھیں۔ ان کے لیے ایمان سب سے قیمتی سرمایہ تھا۔ افسوس! آج بہت سی نوجوان لڑکیاں عارضی جذبات اور وقتی تعلقات کی خاطر اپنی دینی شناخت تک کو داؤ پر لگا دیتی ہیں۔ اگر ایمان کی محبت دلوں میں زندہ ہوتی تو وہ ہر تعلق اور ہر رشتے سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو مقدم رکھتیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ امت کے مختلف حلقے اس خطرے کی سنگینی کو پوری طرح محسوس نہیں کر رہے۔ ارتداد کا فتنہ محض چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت کا مسئلہ ہے۔ یہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ امت کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں دین کے علم، قرآن کی سمجھ اور سیرتِ صحابیات سے محروم رہیں گی تو آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کیسے ہوگی؟ حقیقت یہ ہے کہ عورت کسی بھی معاشرے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ اگر وہی دینی تربیت سے محروم ہو جائے تو نسلوں کی اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری خواتین دینی مجالس سے وابستہ ہوں، قرآن و حدیث کو سمجھیں، سیرتِ نبوی ﷺ اور سیرتِ صحابیات کا مطالعہ کریں، اپنے ایمان کی حفاظت کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں اور اپنی اولاد کی تربیت کو محض دنیاوی کامیابی تک محدود نہ رکھیں۔ صرف عالمہ کورس، صرف عربی زبان یا صرف ظاہری پردہ کافی نہیں جب تک دلوں میں ایمان کی حرارت، اللہ تعالیٰ کا خوف اور دین سے سچی محبت پیدا نہ ہو۔ دین صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ کردار سازی، قلبی اصلاح اور عملی زندگی کی تعمیر کا نام ہے۔آج ہمیں اپنے گھروں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی اولاد کو کیا دے رہے ہیں؟ محض ڈگریاں یا ایمان بھی؟ صرف دنیا یا آخرت بھی؟ صرف روزگار یا اللہ تعالیٰ کی رضا بھی؟ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والے دن اور زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ابھی بھی وقت ہے کہ ہم بیدار ہو جائیں، اپنے گھروں کو دینی قلعے بنائیں، اپنی بیٹیوں کو قرآن و سنت سے جوڑیں، انہیں صحابیات رضی اللہ عنہن کے کردار سے روشناس کرائیں اور ان کے ایمان کی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب اذانیں تو بلند ہوں گی مگر نمازی کم ہوں گے، قرآن موجود ہوگا مگر اس پر عمل کرنے والے کم ہوں گے، مسلمان کہلانے والے تو ہوں گے مگر اسلام ان کی زندگیوں سے غائب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی ایمان، عقیدہ، حیا اور عفت کی حفاظت فرمائے، انہیں ہر قسم کے فتنوں، گمراہیوں اور آزمائشوں سے محفوظ رکھے، ان کے دلوں کو قرآن و سنت کی روشنی سے منور فرمائے اور انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین
