مئو ناتھ بھنجن(A.T.N)گذشتہ روز کلیہ خدیجۃ الکبریٰ الاسلامیہ للبنات میں عقیدہ و سیرت انعامی مسابقہ کا انعقاد کیا گیا تھا ۔اس میں کلیہ کی تمام طالبات نے شرکت کی ۔ اِس مسابقہ کا مقصد طالبات کے اندرصحیح عقیدہ، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی تعلیمات سے دلچسپی پیدا کرنا اور دینی ذوق کو فروغ دینا تھا اور دوسرا اہم مقصد یہ بھی تھا کہ مدرسے کے انتظامیہ کی یہ کوشش تھی کہ شہر کے مالدار طبقے کے کچھ خاص افراد کو مدعو کیا جاۓ تاکہ وہ لوگ مدرسے کو قریب سے دیکھ سکیں اور مدرسے کے حالات کو بہتر بنانے میں مالی تعاون کر سکیں ۔
اسی مناسبت سے 26 جولائی 2026 بروز اتوار تقسیمِ انعامات کی تقریب نہایت شان و شوکت اور دینی ماحول میں منعقد ہوئی۔
تقریب کی صدارت مولانا محفوظ الرحمن فیضی نے فرمائی، جبکہ معروف سماجی شخصیت جناب جمال اختر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد تین طالبات نے تقاریر پیش کیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا محفوظ الرحمن فیضی نے علمِ دین کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دین کا علم حاصل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا فرضِ کفایہ ہے، اور اگر معاشرے میں اس ذمہ داری کو ادا کرنے والے موجود نہ ہوں تو پوری امت اس کی جواب دہ ہوگی۔ انہوں نے مدارس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ان کے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا اور آخر میں تمام طالبات و معلمات کو وصیت فرمائی کہ سورہ نور اور سورہ حجرات کی تفسیر کا گہرائی سے مطالعہ کریں کیوں کہ ان دونوں سورتوں میں خواتین سے متعلق متعدد اہم احکامات ، آداب اور رہنمائی نہایت جامع انداز میں بیان کی گئی ہے ۔
مہمانِ خصوصی جناب جمال اختر نے اپنے خطاب میں طالبات کی تعلیم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت کی تعلیم درحقیقت پورے خاندان کی تعلیم ہے، اس لیے بچیوں کی دینی و اخلاقی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مدارس کی ترقی اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بعد ازاں مسابقے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات میں خصوصی انعامات اور ٹرافیاں مہمانِ خصوصی جناب جمال اختر کے دستِ مبارک سے تقسیم کی گئیں۔
اس کے علاوہ مسابقے میں شریک تمام طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں بھی ٹرافیاں اور انعامات سے نوازا گیا۔
اِس موقع پر صدر کلیہ مولانا نسیم اختر فیضی صاحب حفظہ اللہ، ناظمِ اعلیٰ حسین احمد صاحب حفظہ اللہ، دیگر اراکین و معلمین و معلمات موجود رہے۔

