مئو ناتھ بھنجن(A.T.N)مئو علم کا بغداد ہے،علم کا مرکز ہے اور ہندوستانی سلفیوں پر مئو کا احسان ہے۔
مذکورہ خیالات کا اظہار عالم اسلام کے محقق،جامعۃ الامام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور جماعت کے بزرگ عالم دین ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی نے کیا۔وہ شہر کے جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو میں منعقد ایک علمی تقریب کو خطاب کر رہے تھے،انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے علم کی پختگی،فقہی گہرائی و گیرائی اور تاریخ پر دسترس حاصل کرنے کی تلقین کی،فریوائی صاحب نےحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت شاہ اسماعیل شہید، حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلوی، نواب صدیق حسن خاں اور دیگر علمائے حق کی گراں قدر علمی و دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ شیخ موصوف نے علمائے اہل حدیث کی تاریخ کا ایک جامع خاکہ بھی پیش کیا اور اخیر میں اپنے طویل علمی و تحقیقی زندگی کے نچوڑ اور گراں قدر تجربات طلبہ و اساتذہ کے سامنے پیش کیے اور مسلسل مطالعہ و تحقیق کو کامیابی کی کنجی قرار دیا۔

پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کہا کہ جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو کو کئی حیثیتوں سے ہندوستانی مدارس میں اولیت اور برتری حاصل ہے۔امیر جمعیت نے مولانا احمد ناظم صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ویسا ناظم نہ تو کوئی تھا اور نہ ہی ہوگا۔ مولانا موصوف نے شہر مئو اور جامعہ فیض عام سے وابستہ اپنی یادوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی ساتھ طلبہ جامعہ کو اپنی قیمتی نصیحتوں سے بھی نوازا، انہوں نے دورانِ خطاب فرمایا کہ موجودہ حالات کا صحیح ادراک کریں،اپنے علم کی قدر و منزلت کو پہچانیں اور اپنی نفسانی خواہشات پر قابو رکھتے ہوئے اساتذہ کے بلند مقام و مرتبے کا پورا احترام کریں۔
اس علمی تقریب میں جامعہ سلفیہ بنارس کے سابق استاذ مولانا عبد الوہاب حجازی بھی شریک رہے۔ انہوں نے حسن نیت، اتباع سنت رسول ﷺ اور اخلاص عمل کو طالب علم کی کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ مزید برآں انہوں نے تشنگان علوم نبوت کو تلقین کی کہ وہ زمانے کے فتنوں اور گردش ایام سے متاثر ہوئے بغیر، کامل اخلاص، للہیت، تقویٰ اور طہارت کے ساتھ حصول علم میں ہمہ تن مصروف رہیں۔
مولانا نے واضح طور پر کہا کہ دین کا علم اسی صورت میں پھل لاتا ہے جب دل میں اخلاص ہو، مولانا حجازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے گھر کے بزرگوں نے جامعہ فیض عام سے فیض اٹھایا ہے۔ جامعہ میرے لیے نیا نہیں ہے میرے بزرگ اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔
اس علمی پروگرام کی صدارت شیخ الجامعہ مولانا مظہر علی مدنی نے فرمائی۔ پروگرام میں صدر کمیٹی اشتیاق احمد عابدی، ناظم اعلیٰ محمد انس، نائب ناظم الحاج نور الحسن، نائب صدر انیس الرحمٰن، مولانا محفوظ الرحمٰن فیضی، مولانا عبد الغنی فیضی، مولانا اظہر عبد الرحمٰن مبارکپوری، مولانا عبد الحمید فیضی، مولانا اقبال احمد محمدی، فیروز اختر ارپن، اقبال احمد بنارسی، محمد اجمل انصاری کے علاوہ دیگر مہمانان،اساتذہ اور اور طلبہ موجود رہے۔
