مئو ناتھ بھنجن(A.T.N)پوری امت آپ کی طرف دیکھ رہی ہے،اس پر آشوب دور کے اندر اسلام کا دفاع اگر آپ نہیں کریں گے تو کون کرے گا،آپ کو صرف دینی قیادت نہیں کرنی ہے بلکہ سماجی،معاشرتی اور سیاسی قیادت بھی کرنی ہے نیز انبیاء کی وراثت کو سنبھالنا بھی آپ ہی کا کام ہے۔
مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا مظہر علی مدنی شیخ الجامعہ جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا،وہ جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو کے فیضی طلبہ جو عالم اسلام کی مشہور یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ میں زیر تعلیم ہیں ان کی طرف سے منعقد تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔Naushad

انہوں نے کہا کہ یہ مسابقہ اس لیے آپ کے مابین کرایا گیا ہے تاکہ آپ تعلیمی صلاحیت بڑھے اور استعداد نکھرے،آپ کی تعلیم کا مقصد واضح رہے تاکہ راستہ بھی منزل ہی کی طرف رہے اور آپ اپنی زمہ داریوں اور فرائض کو متعین کریں،پوری بلند ہمتی اور لگن کے ساتھ تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھیں۔
اس تقریب کو جامعہ کے استاد ڈاکٹر عبد المنان فیضی مدنی نے بھی خطاب کیا،انہوں نے دورانِ خطاب مشارکین مسابقہ کو مبارکباد پیش کی اور طالب علم کے حقیقی اوصاف کا تفصیلی تذکرہ کیا،آپ نے کہا کہ علم کثرت روایت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اللہ رب العالمین کو نور ہے،جسے اللہ بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے،اور یہ نور الہی اسی کو ملتا ہے جو اتباع سنت کے ساتھ ساتھ اپنے کو بدعات و خرافات اور خواہشات نفسانی سے بچاتا ہے۔
مدیر مسابقہ اور ناظم پروگرام مولانا محمد عامر فیضی مدنی نے مسابقہ کے تعلق سے مدنی فیضی طلبہ کی کوششوں کا ذکر کیا اور خصوصی طور پر تمام خرجین جامعہ کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ یہ مسابقہ تین زمروں میں تقسیم تھا،زمرہ اولیٰ: سابعہ اور ثامنہ کے طلبہ پر مشتمل تھا،اعلام السنۃ المنصورہ(حافظ الحکمی) زمرہ دوم: رابعہ تا سادسہ کے طلاب پر مشتمل تھا،شرح الدروس المہمۃ(ابن باز)زمرہ ثالثہ: اولیٰ تا ثالثہ کے طلبہ پر مشتمل تھا،شرح ثلاثۃ الاصول(امام محمد بن عبد الوہاب)
صدر انجمن مولانا محمد مدنی نے نتائج کا اعلان کیا،انعامات میں،پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو دینی،علمی اور ادبی کتابوں کا سیٹ،نقد،قلم اور اسناد سے نوازا گیا۔
پروگرام میں ناظم اعلیٰ محمد انس انصاری،نائب ناظم الحاج نور الحسن،مولانا معظم فیضی مدنی کے علاوہ اساتذہ اور طلبہ موجود رہے۔
