**جوہر یونیورسٹی: آئینی حقوق پر بلڈوزر کارروائی**
عظیم مجاہدِ آزادی اور کانگریس پارٹی کے صدر رہ چکے مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بڑی راحت ملی ہے۔ مرادآباد ڈویژنل کمشنر کی عدالت نے یونیورسٹی کیمپس میں مجوزہ انہدامی کارروائی پر عبوری روک لگا دی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نے اترپردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ، 1973 کی دفعہ 27(1) کے تحت 15 جولائی 2026 کو حکم جاری کرتے ہوئے جوہر یونیورسٹی کیمپس میں تعمیر شدہ 38 عمارتوں کو مبینہ غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ حکم میں یونیورسٹی انتظامیہ کو ان تعمیرات کو 20 دن کے اندر خود ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ مقررہ مدت کے اندر تعمیرات نہ ہٹائے جانے کی صورت میں RDA کی جانب سے خود انہدامی کارروائی کیے جانے کی بات کہی گئی تھی۔
جوہر یونیورسٹی کے انہدام کے حکم کو لے کر یونیورسٹی کے طلبہ سمیت معاشرے کے ہر طبقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا۔ بالخصوص اقلیتی طبقے میں اس مبینہ تغلقی فرمان اور تعلیم کے اس مرکز کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کرنے کی بی جے پی حکومت کی مبینہ منشا کو لے کر لوگوں میں شدید بے اطمینانی تھی۔ طلبہ اپنے مستقبل کو لے کر فکرمند تھے، جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین بھی اس کارروائی کو لے کر پریشان تھے۔

حکم جاری ہونے کے فوراً بعد جوہر یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ اور ملازمین بڑی تعداد میں یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر غیر معینہ مدت کے دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس تحریک کو سیکولر، سماجوادی اور ترقی پسند سیاست پر یقین رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔
اسی سلسلے میں اترپردیش کانگریس کے صدر جناب اجے رائے احتجاج کرنے والے طلبہ کے مظاہرے میں پہنچے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے عہدیداران، ملازمین اور طلبہ و طالبات سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا:
**“تعلیمی اداروں کو سیاسی عداوت اور انتقام کی بھینٹ چڑھانا قطعی قابلِ قبول نہیں ہے۔ سیکڑوں طلبہ کا مستقبل اور ملازمین کی روزی روٹی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اترپردیش کانگریس اس ناانصافی کے خلاف مضبوطی سے ہر متاثرہ شخص کے ساتھ کھڑی ہے۔”**
اس کے علاوہ سماجوادی پارٹی کا وفد (جو ممبران پارلیمنٹ پر مشتمل تھا)، سوامی پرساد موریہ، کسان لیڈر راکیش ٹکیت، بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد سمیت کئی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی تحریک کی حمایت میں آواز بلند کی۔
**آرٹیکل 30(1) کا آئینی تحفظ**
ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 30(1) مذہب اور زبان کی بنیاد پر اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ رامپور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بھی مئی 2013 میں نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (NCMEI) کی جانب سے باضابطہ طور پر اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ دیا گیا تھا۔
لہٰذا یونیورسٹی کے حوالے سے کی جانے والی ہر انتظامی کارروائی آئین کی روح، قدرتی انصاف اور تناسب (Proportionality) کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
اس سلسلے میں کئی سیاسی اور سماجی افراد نے حکومت سے یونیورسٹی کو اپنے قبضے میں لینے کی درخواست کی ہے، جوغیر مناسب ہے۔ معروف صحافی چترا ترپاٹھی نے کہا ہے کہ بہتر ہوگا کہ حکومت اسے اپنے ماتحت لے کر چلائے۔ بی جے پی لیڈر فساحت علی خان شانو کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اسے اپنے ماتحت لے لے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ڈویژنل کمشنر کو ایک میمورنڈم بھی دیا ہے۔
حکومت تعلیم کے معیار اور تعلیمی ضوابط کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے قانون بنا سکتی ہے، لیکن کیا قوانین کی آڑ میں کسی اقلیتی ادارے کی خودمختاری اور اس کی بنیادی تعلیمی حیثیت کو ختم کرنا مناسب ہے؟
سپریم کورٹ واضح کر چکا ہے کہ آرٹیکل 30 کے تحت آنے والے ادارے بھی عام قوانین اور تعلیمی معیار سے مکمل طور پر مستثنیٰ نہیں ہیں، لیکن ضابطہ کاری کے نام پر ان کے آرٹیکل 30 کے حقوق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
لہٰذا حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ قانون کی پابندی کے نام پر ایسی کوئی کارروائی نہ کی جائے جس سے اقلیتوں کے آئینی حقوق اور ملک کے کثرت پسند، سیکولر اور جامع جمہوری نظام کو کمزور کیا جائے۔
# **سیاسی محرکات سے متاثر حکم**
جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے رامپور کے ضلع مجسٹریٹ کا حکم محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ سیاسی بدنیتی سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ یہ الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں کہ بی جے پی حکومت کی پولرائزیشن کی سیاست کے تحت مسلمانوں اور اقلیتوں سے وابستہ تعلیمی اداروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر کسی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور اس کا اثر طلبہ کے مستقبل پر نہیں پڑنا چاہیے۔
آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ گزشتہ 9 برسوں میں بدعنوانی، بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل کو لے کر حکومت پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ NEET پیپر لیک کو لے کر پورے ملک میں طلبہ، نوجوان اور جین ذی احتجاج کر رہے ہیں، اترپردیش میں بھی نوجوانوں کے سامنے روزگار ایک بڑا چیلنج ہے اور بڑی تعداد میں اترپردیش کے نوجوان نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

رام مندر کے چندے میں مبینہ گھوٹالے اور بے ضابطگیوں کو لے کر بھی حکومت کی شفافیت اور انتظام و انصرام پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ایسے میں جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے کی گئی کارروائی پر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کہیں اس طرح کے احکامات عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کا ذریعہ تو نہیں ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے، بی جے پی کی نفرت اور پولرائزیشن کی سیاست مزید تیز ہوگی، کیونکہ بی جے پی کے پاس عوام کے درمیان جانے کے لیے کوئی ٹھوس کامیابی یا مثبت ایجنڈا نہیں ہے۔ اس لیے وہ تعلیم، روزگار، مہنگائی اور ترقی جیسے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے فیصلے کر رہی ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) میں قانون کے سینئر پروفیسر رہ چکے پروفیسر ظہیرالدین کہتے ہیں:
**“ہر سال انتظامیہ ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یونیورسٹی بند ہونے والی ہے، تاکہ طلبہ یہاں سے چلے جائیں۔ شاید وہ ایسی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ آخرکار یونیورسٹی صرف ایک ڈھانچہ بن کر رہ جائے، جسے کسی ضابطے کے نام پر بلڈوزر سے گرایا جا سکے۔ اگر حالات مجبور کرتے ہیں تو ہم طلبہ کو سڑک پر پڑھائیں گے۔”**
جوہر یونیورسٹی کا تحفظ صرف ایک ادارے کا تحفظ نہیں، بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل اور تعلیم کے آئینی حق کا تحفظ ہے۔ حکومت کی ایسی کوئی کارروائی مناسب نہیں ہے جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو یا ان کا مستقبل تاریک ہو۔ حکومت کو سیاسی عداوت سے بالاتر ہو کر آئین، قانون اور طلبہ کے مستقبل کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
**ہَمّام وحید، ایڈوکیٹ**
**7081997054**
