- شہر مئو کی عیدالاضحیٰ
از قلم ڈاکٹر منظر کمال (لکچرار)
ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ڈائٹ)
غازی پور

صوبہ اتر پردیش کے مشرقی علاقے میں دریائے ٹونس کے ساحل پر واقع شہر مئو اپنی قدیم روایتوں، دستکاری، اعلیٰ دینی تعلیمی اداروں، رنگ برنگی خوبصورت ساڑیوں کی صنعت، تہذیبی رنگا رنگی، اردو زبان و ادب اور گنگا-جمنی تہذیب کے لیے ملک بھر میں مشہور و معروف ہے۔ یہ شہر نہ صرف تعلیمی و تجارتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہاں کی مذہبی ہم آہنگی بھی قابلِ ستائش ہے۔ یہاں کے باشندے اپنی سادگی، خلوص و محبت، ایثار و قربانی، جود و سخاوت، مذہبی جذبے اور رواداری وغیرہ کے لیے جانے جاتے ہیں۔خاص طور پر عیدالاضحیٰ کے مبارک اور پرمسرت موقع پر مئو کی فضائیں عبادت، ایثار و قربانی اور روحانیت کے رنگ میں رنگ جاتی ہیں۔
مسلمانوں کے دو عظیم تہواروں میں دوسرا تہوار عیدالاضحیٰ ایک نہایت اہم مذہبی تہوار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی سنت میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے، ایثار، صبر، اطاعت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ اس عید کو "بڑی عید” بھی کہا جاتا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر شہر مئو ایک روح پرور منظر پیش کرتا ہے جہاں ہر طرف عبادت، ایثار و قربانی ، محبت اور خوشیوں کی فضا قائم ہوتی ہے۔ یوں تو مئو شہر میں ذوالحجہ کے آغاز سے قبل ہی عیدالاضحیٰ کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں لیکن خصوصی طور پر عیدالاضحیٰ سے چند دن قبل بازاروں میں خاصی رونق دیکھنے کو ملتی ہے۔ گھروں کی صفائی و ستھرائی، سجاوٹ، نئے کپڑوں کی خریداری، قربانی کے جانوروں کی خریداری اور ان کی دیکھ بھال اور خاص پکوانوں کی تیاری میں لوگ بے حد مصروف ہو جاتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ کی خریداری مئو کے بازاروں کی جان ہوتی ہے۔ مرزاہادی پورہ چوک بازار، صدر بازار، روضہ بازار اور شہادت پورہ بازار وغیرہ مئو شہر کے بڑے بازار مانے جاتے ہیں۔بہت سے مرد، عورتیں اور بچے نئے کپڑے، چپل، جوتے، ٹوپی اور عطر وغیرہ خریدنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔خواتین کے لیے کپڑے، چوڑیاں، مہندی، زیب و زینت اور زیورات وغیرہ کی دکانوں پر خاصی بھیڑ ہوتی ہے۔مگر بیشتر لوگ عیدالفطر کے ملبوسات وغیرہ ہی دوبارہ زیب تن کرتے ہیں۔اس کے علاوہ عیدالاضحیٰ سے متعلق اشیائے خوردنوش کی
دکانوں پر خاصی بھیڑ ہوتی ہے۔کھانے پینے کی چیزوں میں سیوئیاں، بریڈ، گلاب جامن پاؤڈر، خشک میوه جات ،دودھ، گھی ،مصالحے، پنیر، مکھن، کھویا، شکر اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری عروج پر ہوتی ہے۔
عیدالاضحیٰ سے قبل مئو شہر کی مویشی منڈیاں خاص توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔ لوگ بڑے شوق اور عقیدت کے ساتھ بکرے، بھیڑ، دنبے اور بھینسیں خریدتے ہیں۔شہر کی بڑی مویشی منڈیوں میں روضہ منڈی، مدن پورہ تانے والی باغ منڈی اور کھیری باغ منڈی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان کے علاوہ تقریباً سبھی محلوں میں بھی جگہ جگہ مویشیوں کے چھوٹے چھوٹے بازار لگتے ہیں۔بہت سے لوگ بکرے پال کر بھی قربانی کرتے ہیں۔بچے خاص طور پر قربانی کے جانوروں سے بے حد مانوس ہو جاتے ہیں اور انہیں نہلاتے، سجاتے اور کھلاتے پلاتے ہیں۔ بعض لوگوں کے ذریعہ جانوروں کے گلے میں رنگین پٹیاں، گھنٹیاں اور خوبصورت رسیاں وغیرہ باندھی جاتی ہیں جس سے ان کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں اور شہر کی رونق میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
عید کی صبح نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد لوگ غسل کر کے، نئے کپڑے پہن کر بالخصوص کرتہ پاجامہ اور خوشبو لگا کر نمازِ عید کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مئو شہر کی تمام چھوٹی بڑی عیدگاہوں اور بعض مساجد میں نمازِ عیدالاضحیٰ کے عظیم الشان اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ بڑی عیدگاہوں میں عیدگاہ اہل حدیث (صحرا) ڈومن پورہ، شاہی عیدگاہ اورنگ آباد، عیدگاہ اہل حدیث عالیہ نگر، عیدگاہ اہل حدیث کھیدو پورہ، نئی عیدگاہ جمال پورہ، عیدگاہ اہل حدیث دارالحدیث لب دریا اور نئی عیدگاہ پہاڑ پورہ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید بلا تفریق امیر و غریب اور رنگ و نسل نمازِ عید ادا کرتے ہیں۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
نماز کے بعد ائمہ حضرات خطبۂ عیدالاضحیٰ دیتے ہیں جس میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی دعوت توحید، ایثار و قربانی، صبر و استقامت ،تقویٰ و پرہیزگاری، اخوت و محبت، صلہ رحمی، غربا و مساکین کی مدد اور اسلامی تعلیمات پر عمل وغیرہ کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے بعد لوگ سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل کرتے ہوئے قربانی انجام دیتے ہیں۔ قربانی کا گوشت رشتہ داروں، دوستوں، پڑوسیوں، غربا و مساکین اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے معاشرے میں ہمدردی، مساوات اور بھائی چارے کا جذبہ فروغ پاتا ہے جس سے سماج کے سبھی طبقے عید کی خوشیوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔
شہر مئو میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے مواقع پر مردوں کی طرح نہایت جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ بچیاں اور خواتین بھی بڑی تعداد میں نمازِ عیدین ادا کرنے کے لیے عیدگاہوں اور مساجد میں حاضری دیتی ہیں۔ یہ منظر شہر کی دینی بیداری، اسلامی شعور، سنت پر عمل کا جذبہ اور مذہبی ہم آہنگی کی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔ ان عیدگاہوں اور مساجد میں خواتین کے لیے مرد حضرات سے الگ مکمل پردے کے ساتھ جگہ مختص ہوتی ہے جہاں خواتین باپردہ انداز میں نماز اور دعا میں شرکت کرتی ہیں اور عید کی خوشیوں میں شامل ہو کر اجتماعی عبادت کا حصہ بنتی ہیں۔
نماز کے بعد اہالیانِ مئو ایک دوسرے سے گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں، گلے ملتے ہیں اور "عید مبارک” کہتے ہیں نیز "تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال” جیسی دعائیں دیتے ہیں۔لوگ اپنے عزیز و اقارب، رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کے گھروں پر جا کر مبارک باد دیتے ہیں۔ گھروں میں مہمانوں کی آمد کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہتا ہے جن میں برادرانِ وطن بھی شامل ہوتے ہیں۔ ہر جگہ پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں بریانی، قورمہ،پلاؤ، کباب، نہاری،چاپ، سیوئیاں، شیر خورمہ،گلاب جامن، شاہی ٹکڑا، حلوہ،نمکین،پکوڑے،پھل، خشک میوےاور دیگر لذیذ پکوان پیش کیے جاتے ہیں۔
مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبو سے
چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے

"عیدی” یا "تہواری” عیدالفطر کی مانند عیدالاضحیٰ کا بھی ایک خوبصورت حصہ ہے، جس میں بڑے اپنے سے چھوٹوں کو محبت اور خوشی کے طور پر نقد رقم اور تحفے و تحائف وغیرہ پیش کرتے ہیں۔بچے عیدی پا کر بے حد خوش ہوتے ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ عید کی خوشیاں مناتے ہیں۔
مئو شہر میں عیدالاضحیٰ کا تہوار کئی روز تک نہایت جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔شہر میں چار دنوں تک قربانی کی سنت بخوبی ادا کی جاتی ہے۔ان دنوں شہر میں ساڑیوج وغیرہ کا کاروبار پوری طرح سے بند رہتا ہے۔ عید کے ان ایام میں باشندگانِ مئو سیر و تفریح کے لیے مختلف پارکوں، باغوں، ساحلوں، دیہی علاقوں اور تفریحی مقامات وغیرہ کا رخ کرتے ہیں۔ خاندان کے ساتھ گھومنا پھرنا، کھانا پینا اور خوشیاں بانٹنا عید کا خاص حصہ ہوتا ہے۔
مئو شہر میں واقع کھیری باغ کا میدان عیدالفطر کی طرح عیدالاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر بھی خاص طور پر بچوں کے لیے جنت بن جاتا ہے۔ یہاں ہر سال عیدین کے موقع پر تین دنوں تک نہایت جوش و خروش اور دھوم دھام کے ساتھ میلہ لگتا ہے۔ اس میلے میں مئو ضلع کے علاوہ قرب و جوار کے اضلاع مثلاً اعظم گڑھ، غازی پور اور بلیا وغیرہ کے بچے بھی گھومنے اور لطف اٹھانے آتے ہیں۔ یہاں جھولے،چکری، کھلونے، آئس کریم، شربت، چاٹ، مونگ پھلی، ناریل، اماوٹ، فالودہ، ٹھنڈے مشروبات اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
غرض کہ مئو شہر کی عیدالاضحیٰ نہ صرف ایک مذہبی تہوار ہے بلکہ یہ ایثار و قربانی، عقیدت و محبت ، بھائی چارے، رواداری اور خوشی و شادمانی کا حسین امتزاج بھی ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا جذبہ پیدا کریں، دوسروں کے ساتھ خوشیاں بانٹیں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔
