مئو کے بنکروں کی درد ناک داستان: اجرت کی کمی، مہنگائی کی مار اور استحصال کے سائے میں دم توڑتی صنعت، از قلم نہال جالب
مئو کے بنکروں کی درد ناک داستان: اجرت کی کمی، مہنگائی کی مار اور استحصال کے سائے میں دم توڑتی صنعت،
از قلم نہال جالب
مئو ناتھ بھنجن:
اتر پردیش کا تاریخی شہر مئو ناتھ بھنجن، جس کی شناخت کبھی اس کے پاور لوم کی دلفریب کھٹ کھٹ اور یہاں تیار ہونے والی خوبصورت ساڑیاں ہوا کرتی تھیں، آج شدید معاشی اور سماجی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ وہ شہر جس کے بنکروں کے ہنر کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا، آج اسی شہر کے فنکار استحصال، کسمپرسی اور فاقہ کشی کی تصویر بن چکے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے جاری استحصالی نظام، حکومتی عدم توجہی اور مقامی سیٹھوں کی بے حسی نے بنکروں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔
اتر پردیش میں بنکروں کے لیے سب سے بڑا اور فوری مسئلہ بجلی کے بلوں میں ہونے والا بے تحاشا اضافہ ہے۔ مئو کے بنکروں کی اکثریت پاور لومز پر انحصار کرتی ہے۔ ماضی میں بنکروں کو بجلی پر جو سبسڈی اور فلیٹ ریٹ کی سہولت میسر تھی، اس میں کی جانے والی تبدیلیوں اور آئے دن ٹیرف میں اضافے نے بنکروں کی کمر توڑ دی ہے۔ خام مال (سوت اور ریشم) کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اس پر بجلی کے ہوش ربا بلوں نے پیداواری لاگت کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ کئی لوم مالکان اور غریب بنکر اپنے لوم بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بجلی کی اس مہنگائی نے ہزاروں مزدوروں سے ان کا واحد ذریعہ معاش چھین لیا ہے۔

بنکر کا کام انتہائی باریک بینی، توجہ اور جسمانی مشقت کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک بنکر روزانہ 12 سے 14 گھنٹے لوم پر بیٹھ کر گرد و غبار، شور اور کیمیکلز کے درمیان کام کرتا ہے۔ وہ اپنی آنکھوں کی بینائی اور پھیپھڑوں کو داؤ پر لگا کر ایسی نفیس، بھاری اور خوبصورت ساڑیاں تیار کرتا ہے جو بڑے شہروں کے شورومز میں ہزاروں اور لاکھوں روپے میں فروخت ہوتی ہیں۔ لیکن اس ہڈی توڑ محنت کے عوض بنکر کو جو ‘بانی’ (مزدوری) دی جاتی ہے، وہ اتنی قلیل ہوتی ہے کہ اس سے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی محال ہو چکا ہے۔ محنت کا خون پسینہ اور اجرت کوڑیوں کے بھاؤ، یہ مئو کے بنکر کا سب سے تلخ سچ ہے۔
مقامی سیٹھوں اور ساڑی تاجروں کی جانب سے بنکروں کے استحصال کا سب سے ظالمانہ اور غیر انسانی طریقہ ’ساڑی لاٹ‘ ہے۔ ساڑی بننے کے دوران اگر لوم کی کسی خرابی کی وجہ سے، دھاگہ ٹوٹنے سے، یا مشین کا تیل گرنے سے ساڑی میں ایک معمولی سا بھی نقص (Defect) آ جائے، تو مقامی سیٹھ اس پوری ساڑی کو ‘لاٹ’ (خراب) قرار دے دیتا ہے۔
اس ظالمانہ رواج کے تحت سیٹھ غریب مزدور کو اس کی کئی دنوں کی محنت اور مزدوری کا ایک روپیہ بھی ادا نہیں کرتا۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ وہ نقص والی ساڑی بنکر کو واپس دینے کے بجائے سیٹھ خود اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور بعد میں اسے بازار میں ‘کٹ پیس’ یا معمولی نقص والی ساڑی کے طور پر فروخت کر کے اپنا منافع کھرا کر لیتا ہے، جبکہ مزدور خالی ہاتھ اور روتا ہوا اپنے گھر لوٹتا ہے۔
مئو کے کپڑا بازار کی ایک اور سنگین بے ایمانی بنکروں کی مزدوری کے ساتھ کھیلا جانے والا کھیل ہے۔ جب بھی بازار میں معاشی مندی آتی ہے، مانگ کم ہوتی ہے یا کوئی اور بحران (جیسے کووڈ) آتا ہے، تو سیٹھ اور تاجر فوراً بنکروں کی مزدوری (بانی) میں بھاری کٹوتی کر دیتے ہیں۔ بنکر مجبوری میں کم پیسوں پر کام کرنے لگتا ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ جب بازار میں دوبارہ تیزی آتی ہے، ساڑیوں کی مانگ بڑھتی ہے اور تاجروں کا منافع کئی گنا بڑھ جاتا ہے، تب بھی وہ گھٹائی گئی مزدوری کو دوبارہ نہیں بڑھاتے۔ غریب بنکر سالوں تک اسی پرانی اور کاٹی گئی مزدوری پر کام کرنے پر مجبور رہتا ہے، جبکہ بازار کی مہنگائی کئی گنا بڑھ چکی ہوتی ہے۔

آمدنی اور اخراجات کے اس زبردست عدم توازن نے بنکروں کو سنگین معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ آج کے دور میں جہاں آٹا، دال، سبزیاں، بچوں کی فیسیں اور دوائیں غریب کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، وہاں بنکروں کے گھروں میں اکثر چولہے ٹھنڈے رہتے ہیں۔ کم خوراکی اور فاقہ کشی کے باعث بنکروں کے خاندان غذائی قلت اور مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ علاج کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کئی بنکر خاموشی سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ یہ پیشے سے مایوسی کا ہی نتیجہ ہے کہ بنکروں کی نئی نسل اب اس آبائی ہنر کو چھوڑ کر دوسرے شہروں میں معمولی مزدوری کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی:
مئو کے ساڑی تاجروں اور سیٹھوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی حویلیاں اور چمکتا ہوا کاروبار ان غریب بنکروں کے پسینے کا ہی مرہونِ منت ہے۔ اگر سیٹھ چاہیں تو اپنے منافع میں سے معمولی سا حصہ کم کر کے بنکروں کی اجرت میں معقول اضافہ کر سکتے ہیں۔ ‘ساڑی لاٹ’ جیسے غیر انسانی رواج کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ اگر مزدور خوشحال ہوگا تو صنعت خود بخود ترقی کرے گی۔
ریاستی اور مرکزی حکومت کو بنکروں کے مسائل پر چشم پوشی ترک کرنی ہوگی۔حکومت کو چاہیے کہ بنکروں کے لیے فوری طور پر بجلی کے پرانے فلیٹ ریٹ یا مؤثر سبسڈی کو بحال کرے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو سکے۔ خام مال (سوت) پر جی ایس ٹی (GST) کی شرح میں کمی کی جائے اور بنکروں کو براہ راست فائدہ پہنچانے والی اسکیمیں شروع کی جائیں۔بنکروں کی فلاح و بہبود، ان کے بچوں کی تعلیم اور مفت علاج کے لیے خصوصی ہیلتھ کارڈز جاری کیے جائیں۔
یہ وقت خاموش تماشائی بنے رہنے کا نہیں ہے۔ بنکروں کی نمائندہ تنظیموں (بنکر سبھاؤں) کے علاوہ دیگر تمام سماجی، فلاحی، اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ انہیں متحد ہو کر نہ صرف استحصالی تاجروں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، بلکہ حکومت تک بھی اپنی بات پوری طاقت کے ساتھ پہنچانی چاہیے۔ پرامن احتجاج، بیداری مہم اور منظم جدوجہد کے ذریعے ہی سرکار کو مطالبات ماننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
مئو ناتھ بھنجن کی پہچان یہاں کا ہنرمند بنکر ہے۔ اگر آج اس فنکار کو بھوک اور استحصال کے ہاتھوں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، تو کل یہ شہر اپنی تاریخ کے سب سے قیمتی اثاثے اور ہنر سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بنکر کے ہاتھ کو مضبوط کیا جائے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
