امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کا معاملہ ایک بار پھر خبروں میں ہے۔
جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے امریکی بحریہ سے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی ایرانی کشتی کو بارودی سرنگیں بچھاتے دیکھا گیا تو اسے تباہ کر دیا جائے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی گزرتی ہے اور ایران نے اسے تقریباً بند کر دیا ہے۔
اسی دوران امریکہ بار بار فوجی کارروائی کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور یہاں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی بات کر رہا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ سمندر میں کون سی بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں، وہ کیسے کام کرتی ہیں اور انھیں ہٹانا کیوں بہت مشکل ہوتا ہے۔ ہم یہ بھی جانیں گے کہ جنگ میں ان کی کیا اہمیت ہے اور ان کی تاریخ کیا ہے؟
