یوز نمبر 1- مؤناتھ بھنجن (A,T,N)گذشتہ شب مؤ شہر کے محلہ مغل پورہ واقع ٹی سی آئی چوک کے پاس ڈاکٹر ایم اسلم کی کلینک پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیاگیا۔اس دوران سہ ماہی ادب سلسلہ کا ”اردو سفر نامہ،تصورات، روایات اور تجزیہ“کا رسم اجراء کتاب کے مدیر سلیم علیگ، سرپرست ڈاکٹر تنویر فریدی، نائب مدیر ڈاکٹر جاوید حسن،ڈاکٹر خان محمد رضوان، ڈاکٹر ایم اسلم،ڈاکٹر امتیاز ندیم اور منظر کے ہاتھوں عمل میں آیا۔اس موقع پر”اردو سفرنامہ،تصورات، روایات اور تجزیہ“کے مدیر سلیم علیگ نے بتایاکہ یہ شمارہ گذشتہ دو سالوں کی ہم لوگوں کی محنت کا ثمرہ ہے۔اس کے جو کام ہیں وہ ہمارے سیلبس میں ماسٹرس کورس ایم اے اردومیں پڑھائے جاتے ہیں۔غیر افسانوی نثر میں سفرنامے کا ایک چپٹر ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ادب سلسلہ کی یہ روایت رہی ہے جب ہم کسی شمارے کا اعلان کرتے ہیں تو اس کو خصوصی نمبر کادرجہ دیتے ہیں۔اور اس پر ایز اے پروجیکٹ ہم لوگ کام کرتے ہیں اور کام کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو ریسرچ اسکالرس ہیں ان کو ہر بار ہر مرتبہ نئے مواد فراہم کرانے کی کوشش رہتی ہے اور الحمد اللہ بہت حد تک اس میں ہم لوگ کامیاب بھی رہے ہیں۔ادب سلسلہ نے دس برسوں سے زائد کا عرصہ طے کرلیا ہے اور 17 شمارے منظر عام پر آچکے ہیں اور سبھی شمارے بہت خاص نمبر ہیں۔انہوں نے سفرنامے کی اہمیت و افادیت اور اس کی ادبی حیثیت کے بارے میں تفصیلی جانکاریاں دیں۔انہوں نے کہاکہ اس کا بہت اچھا رسپانس ہے اور ہر جگہ اس کی پذیرائی ہورہی ہے۔سرپرست ڈاکٹر تنویر فریدی نے کہاکہ ادب سلسلہ سے میں اتبداء سے جڑا رہا ہوں اور شروع میں میں مدیر اعلیٰ بھی اس کا رہا لیکن بعد میں وقت میں مجبوری کے سبب میں اب اس کا سرپرست ہوں، ہمارا مقصد رہتا ہے کہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں ہم سے جو بن سکے گا اسے ہم کریں گے۔میں ادیب نہیں ہوں لیکن ادب نواز ہوں۔اردو جس حالات سے دو چار ہورہی ہے

ہمارے ملک میں حالانکہ اردو خالص ہندوستانی زبان کے نام سے جانی و پہچانی جاتی ہے لیکن آج حالات یہ ہیں کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے نام پر کوئی دس روپئے بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔یہ شمارہ ہم لوگ جتنے سالوں سے نکال رہے ہیں اگر ہم چاہیں کہ مارکیٹ میں اس کا کچھ بزنس بھی کیاجائے تو کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ اردو ادب کو زندہ رکھنے کیلئے ہم سے جو بن پڑے گا ہم کریں گے۔ہمارے شمارے میں ہر بار ایک الگ ٹاپک ہوتا ہے۔یہ شمارے ہندوستان کی جتنی بھی یونیورسٹیز ہیں ان میں جاتے ہیں اور اس سے ریسرچ اسکالر کو بہت فائدے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کو نکالنا بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ مالی طور پر ہمیں بہت سپورٹ نہیں ملتا،چند لوگ ہی مل کر اسے نکالتے ہیں،اردو کو زندہ رکھنے کیلئے کرنا پڑیگا،کچھ ہی لوگ ہر دور میں رہے ہیں چاہے وہ سرسید کادور ہا ہو یا شبلی نعمانی رہے ہوں یا پھر الطاف حسین حالی رہے ہوں سب کو چیلنجیز پیش کرنے پڑتے ہیں اور ہمیں اس سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ چیلنج کو فیس کرنا چاہئے اور ایسے ہی ہم لوگ کرتے رہیں گے۔اسی سلسلہ میں ڈاکٹر امتیاز ندیم نے کہاکہ ادب سلسلہ کا سفرنامہ نمبر کا اجراء ہوا ہے اور اس شمارے کی ذریعہ سفرنامے کی روایتوں اور اس کی تاریخ کا مطالعہ آسان تر ہوتا ہے۔سفر نامہ ایک غیر افسانوی نثر میں شمار کیاجاتا ہے لیکن اس کی تخلیق بہت سے اسناف کو اپنے اندر شامل لیتی ہے۔یہ بیانیہ بھی ہوتا ہے،کہیں کہیں اس کی رومانیت بھی آتی ہے اور کئی تاریخ بھی آتی ہے۔سفر نامے کا دائرہ بہت وسیع ہے،اس سلسلہ میں بہت سے لوگوں نے اپنا قلم چلایا ہے۔اردو میں سفر نامے کی روایت کمبل پوش کے نام سے ایک سفرنامہ نگا ر تھے جنہوں نے سب سے پہلا سفر نامہ تحریر کیا ہے۔انہوں نے انگلینڈ کا سفر کیاتھا اسے کے حوالے سے جو کچھ تفصیلات لکھی تھی سفرنامہ لکھاتھا۔اور اسی تکنیک،اسی روایت اور اسی راستے اپناتے ہوئے بعد کے جتنے سفر نامے ہیں وہ سب تحریر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سفرنامہ صرف انھیں کیلئے مفیدنہیں ہیں جو سفرنامے پر پی ایچ ڈی کرتے ہیں بلکہ جو اردو پر اردو زبان پر اسناف ادب پر پی ایچ ڈی کررہے ہیں ان سب کیلئے یہ سفرنامہ معاون ثابت ہوگا۔اسلئے اس کو محدود نہیں رکھاجاسکتا۔انہوں نے اردو زبان وادب کو فروغ دینے کے بارے میں کہاکہ اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیاجائے کیونکہ جس زبان کا استعمال کم ہوجاتا ہے وہ خود بخود مٹ جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ زیادہ تر ہم اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ سرکاریں اردو کی طرف متوجہ نہیں ہوتیں،وجہ اس کی یہ ہے کہ اردو زبان کو ہم مسلم زبان بنادیئے ہیں اور حکومتیں بھی چاہتی ہیں کہ یہ مسلم زبان کے نام سے ہی جانی جائے کیونکہ اس کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے اس کو آسانی رہے۔اگر ہم نے اس کو مسلم زبان بنالیاہے تو بحیثیت مسلم اس کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے،صرف حکومتوں کے بھروسے اس کو فروغ نہیں دیاجاسکتا۔اس کو زندہ رکھنے کیلئے اس کو اپنے گھروں میں اپنے ماحول میں باقی رکھنا ضروری ہے۔
