انتباہ: اس تحریر میں موجود تفصیلات چند قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
’کٹی ہوئی انگلیوں سے خون بڑی تیزی سے بہہ رہا تھا مگر اُس سے بھی زیادہ تیزی سے ارشد پپّو کی زبان سے گالیاں جاری تھیں۔ مرتے بلکہ قتل ہوتے وقت بھی وہ خوفزدہ ہرگز نہیں تھا۔ آپ اِس کو پپّو کی بے رحمی کہیں، بہادری مانیں یا جو چاہیں سمجھ لیں۔‘
یہ الفاظ اُس سابق سرکاری افسر کے ہیں جو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے لیاری گینگ وار کے سب سے بے رحم کرداروں میں سے ایک یعنی ارشد پپّو کی جرم میں لپٹی زندگی اور تشدد سے بھری ہوئی موت کی کہانی سنا رہے تھے۔
ارشد پپّو اور رحمٰن ڈکیت دونوں ہی اس خونی داستان کے سفاک کردار تھے جسے دنیا ’لیاری گینگ وار‘ کہتی ہے۔ رحمٰن ڈکیت اور ارشد پپّو دونوں تھے تو جانی دوست مگر اپنی اپنی موت سے پہلے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن چکے تھے۔
