مئو ناتھ بھنجن(A.T.N)بزم تعمیر اردو کی طرحی ادبی و شعری نشست مدرسہ بحر العلوم کھیری باغ مئو میں منعقد ہوئی جس کی صدارت نیاز ہمدم نے کی جبکہ نظامت کے فرائض اسماعیل شاداں نے انجا م دیئے۔ اس موقع پر شعراء کے پسندیدہ اشعار حسب ذیل ہیں
ختم ہوتی ہی نہیں دل سے کدورت یارو
شہر میں پھیلی تعصب کی وبا آج بھی ہے
نیاز ہمدم
یاد آجاتی ہے جب تیری پہن لیتا ہوں
تو نے بخشی تھی جو زخموں کی قبا آج بھی ہے
سعید اللّٰہ شاد
ایک وہ ہیں کہ جنہیں پاس وفا کچھ بھی نہیں
اک مرا دل ہے جو پابند وفا آج بھی ہے
عالم نواز
وہ جو نمرود زمانہ ہے بتا دو اس کو
آگ گلزار بنانے کی ادا آج بھی ہے
شمیم انصار عمری
کل بھی تھا منفرد انداز ہمارا صادق
اور ہم عصروں میں رنگ اپنا جدا آج بھی ہے
شمیم صادق
پرسش حال چلے آئیے پھر سے اک بار
درد دل درد جگر حد سے سوا آج بھی ہے
منظر جمیل عاشق
شعر کہتے ہیں یہاں آج بھی کہنے والے
ہاں وہی شہر مئو شہر فضا آج بھی ہے
شمشاد راضی
کون کہتا ہے کہ بدلا ہے نظام عالم
ظلم ،مظلوم پہ ظالم کو روا آج بھی ہے
تابش ریحان
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں مانگنا آیا ہی نہیں
ورنہ اللہ تو مائل بہ عطا آج بھی ہے
شمیم ضمیری
اس کے چہرے کو لکھا چاند کا پیکر میں نے
اس کے مکھڑے پہ عجب پھیلی ضیا آج بھی ہے
اسماعیل شاداں
تجھ کو معلوم نہیں چھوڑ کے جانے والے
دل تری یاد کی خوشبو سے بھرا آج بھی ہے
کلیم جاذل
جو کبھی ملتی تھی ہر ایک بشر میں عامر
کیسے کہہ دوں کہ وہی شرم و حیا آج بھی ہے
معین الدین عامر
وہ کہیں اور کہیں اور کہیں اور سہی
پھر بھی احساس یہ ہوتا ہے مرا آج بھی ہے
فرحان ظفر
اس کے علاوہ بزم میں ڈاکٹر ابو الکلام ، اسعد بھائی ، ریاض احمد ، ابو الکلام ،تنویر احمد اور بہت سے ادب نواز حضرات موجود تھے
اگلی نشست غیر طرحی ہوگی ان شاءاللہ
بزم کا مصرع طرح ۔۔۔ تمام شہر تری گفتگو کا پیاسا ہے
تجویز کیا گیا ہے ۔ قافیہ ۔۔ پیاسا
