مئو ناتھ بھنجن(A.T.N)جس طرح بھاجپا اور سپا ایک میمو ٹرین چلانے کا کریڈٹ لینے کی دوڑ میں لگی ہے اسے دیکھ کر بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے ۔جس مئو نے کبھی تعمیر وترقی ، ایجوکیشن روزگار اور مفاد عامہ کے بڑے سے بڑے کام دیکھے تھے آج وہی مئو چھوٹے چھوٹے اعلانات اور کریڈت لینے کی سیاست تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔مذکورہ باتیں آج شہر کانگریس کمیٹی کے صدر سلمان جمشید نے سپا اور بھاجپا کے لیڈران کے درمیان ایک میمو ٹرین چلانے کو لیکر کریڈٹ لینے کے چکر میں ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنے اور میموٹرین کو ہری جھنڈی دیکھاکر روانہ کرنے کے پروگرام میں رخنہ اندازی کرنے جیسے سپا لیڈر راجیو رائے اور ان کے حامیوں پر وزیر برائے شہری ترقیاتی و محکمہ توانائی اے شرما کے بیان اور راجیو رائے و اے کے شرما کے درمیان زبانی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سچ یہ ہے کہ مئو کی ترقی کی مضبوط بنیاد کانگریس سرکاروں نے رکھی تھی۔ ضلع میں بنے بڑے بڑے ادارے سڑکیں عوامی سہولیات اور فلاح وبہبود کے متعدد کام کانگریس کی دور اندیشی سوچ اور مفاد عامہ کی سیاست کا نتہجہ ہیں۔کانگریس نے ہمیشہ مئو کو آگے بڑھانے نوجوانوں کیلئے مواقع فراہم کرانے اور علاقے کو نئی شناخت دینے کا کام کیا۔بدقسمتی کی بات ہے کہ برسوں گزرجانے کے بعد بھی مئو میں اب تک کوئی ویسا بڑا تاریخی تعمیری کام دیکھنے کو نہیں ملا جیسا کانگریس کے دور حکومت میں ہوا کرتاتھا۔آج صرف سائن بورڈ اور کریڈٹ لینے کی سیاست ہورہی جبکہ عوام اصلی تعمیرو ترقی کے ساتھ مستقبل کی امید تلاش رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مئو کی جنتا سب جانتی ہے کہ کس نے ترقیاتی کام کئے اور کون سیاست کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مئو پھر سے تعمیرو ترقی اور بھائی چارے اور آگے بڑھنے کی سیاست کو چنے۔کا نگریس ہی وہ طاقت ہے جو مئو کو نئی سمت نئی پہچان اور اور نئی ترقی دے سکتی ہے۔مئو کے وقار ترقی اور مستقبل کیلئے کانگریس کو مضبوط بنانا ہوگا۔