امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی عارضی طور پر ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی بھی دوبارہ جنگ ہونے کے امکانات برقرار ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ ہے امریکی صدر جمہویہ ڈونالڈ ٹرمپ کا حالیہ میں دیا گیا ایک بیان جس میں انہوں نے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے امکانات ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ انھیں ایران کے ساتھ سمجھوتے کی شکل کے بارے بتایا گیا ہےلیکن وہ ابھی اس کی مانیٹرنگ کررہے ہیں حالانکہ انہوں نے کہا کہ وہ اسے تسلیم کرنے کے قابل نہیں سمجھتے۔سنیچچر کے روز میامی کیلئے روانہ ہونے سے پہلے فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا اس بات کے امکان ہیں کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے پھرسے شروع کرسکتا ہے۔قبل ازیں ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ ایران نے جنگ کو مستقل طور سے ختم کرنے کے مقصد سے پاکستان کو ثالث کے طور پر اپنی تجویز پیش کی ہے اور اب یہ معاملہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ حکمت عملی کا راستہ اختیار کرتاہے یا ٹکراؤ والی پالیسی جاری رکھے۔انہوں نے کہا کہ اب گیند امریکہ کے پالے میں ہےاور ایران اپنے قومی مفاد اور حفاظت کو یقینی کرنے کیلئے دونوں راستوں کیلئے تیار ہے۔وہیں ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹوتھ پر پوسٹ کیا کہ میں جلد ہی اس منصوبے کی مانیٹرنگ کرونگا جو ایران نے ابھی ہمیں بھیجا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اسے تسلیم کیا جاسکتا کیونکہ گذشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو انہوں نے کیا ہے ، اس کیلئے ابھی تک حاصل بڑی قیمت نہیں ادا کی ہے۔
