مئو ناتھ بھنجن (A.T.N)
ضلع مزدور رابطہ کمیٹی کے زیرِ اہتمام مئو میں یکم مئی کو عالمی یومِ مزدور کے موقع پر ایک عظیم الشان مارچ اور جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ مزدور تنظیموں کا یہ پرجوش مارچ ڈی سی ایس کے ڈگری کالج سے شروع ہو کر ہائیڈل پہنچا، جہاں اس نے ایک بڑے جلسے کی شکل اختیار کر لی۔
اس جلوس اور جلسے میں مزدوروں، کسانوں اور ملازمین کی نمائندہ تنظیموں نے بھرپور شرکت کی، جن میں سی پی آئی، سی پی آئی ایم ایل لبریشن، سی پی ایم، انقلابی مزدور کیندر، کرانتی کاری لوک ادھیکار سنگٹھن، اے آئی ٹی یو سی، سیٹو، کسان مہاسبھا، یوپی بینک ایمپلائز یونین، اور اتر پردیش متحدہ کرمچاری کونسل نمایاں تھیں۔ اس کے علاوہ کتائی مل پنشنرز یونین، نوجوان بھارت سبھا، اور اتر پردیش بنکر فیڈریشن کے ارکان بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے یکم مئی 1886 کی اس عظیم جدوجہد کو یاد کیا جب شکاگو میں مزدوروں نے 8 گھنٹے کام کے مطالبے کے لیے ہڑتال کی تھی۔ انہوں نے 3 اور 4 مئی کے احتجاجی جلسے، مزدوروں پر ہونے والی فائرنگ اور مزدور رہنماؤں پر چلائے گئے سازشی مقدمات کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے شہدائے شکاگو کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مقررین نے موجودہ عالمی اور ملکی حالات پر بھی کڑی تنقید کی۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے تناظر میں دنیا بھر کے مزدوروں اور عام عوام کی تباہی کی شدید مذمت کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی، بھارت کے مختلف صنعتی شہروں میں ابھرنے والی مزدوروں کی حالیہ تحریکوں کو سراہا گیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صرف بائیں بازو کی طاقتیں ہی سامراجیت اور فسطائیت کے خلاف مزاحمت کر سکتی ہیں اور مزدور طبقے کو اس کی تاریخی منزل تک پہنچاتے ہوئے ایک استحصال سے پاک اور غیر طبقاتی معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔
اس پروقار جلسے کی صدارت کامریڈ سوریا دیو پانڈے نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض کامریڈ شری رام سنگھ نے انجام دیے۔ شرکاء سے کامریڈ امتیاز احمد، کامریڈ عبد العظیم خاں، کامریڈ جے پرکاش دھومکیتو، کامریڈ رام اوتار سنگھ، کامریڈ بسنت کمار، شیو کانت مشرا، آشوتوش رائے اور دیگر کئی سرکردہ رہنماؤں نے خطاب کیا۔
پروگرام میں مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے درجنوں کارکنان نے شرکت کی، جن میں سی پی آئی کے کامریڈ اشوک راجبھر، جے پرکاش رام؛ سی پی آئی ایم ایل کے کامریڈ رام نول، درگ وجے؛ سی پی ایم کے کامریڈ وریندر، پیوش اپادھیائے؛ اور انقلابی مزدور کیندر سے ساتھی پنکی، دیویہ کمار اور لالو پرساد وغیرہ نمایاں تھے۔ جلسے کا اختتام مزدور اتحاد اور حقوق کی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔
