جرائم اور جرائم پیشہ عناصر کیلئے اتر پردیش میں کوئی جگہ نہیں، سیکورٹی میں سینگھ لگانے والوں کا سیدھا یمراج کریں گے انتظار،مافیاؤں کے سامنے سرنگوں کی سپا سرکار،وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ

مؤناتھ بھنجن (A,T,N)ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آج مؤ ضلع کے مدھوبن قصبہ کی تاریخی اور شہیدی سرزمین پر ترقیات کی ایک نئی عبارت لکھی۔وزیراعلیٰ نے مدھوبن میں منعقد ایک عظیم الشان اجلاس عام میں 392 کروڑ سے زائد کی تخمینہ لاگت کی 114 فلاحی منصوبوں کی نقب کشائی اور سنگ بنیاد رکھی۔علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ کے ذریعہ مختلف فلاحی منصوبوں سے مستفیض کو سرٹیفکیٹ /ڈیموچیک / ڈیمو کنجی بھی تقسیم کی۔اس سے قبل وزیر اعلیٰ کے ذریعہ لگائے گئے اسٹالوں کا معائنہ بھی کیا۔گود بھرائی اور اناپراشن کا کام بھی کیاگیا۔اس دوران اجلاس عام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مؤ کی شاندار تواریخ کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ ماضی کی سرکاروں میں پلے مافیا راج اور پولرائزیشن کی سیاست پر اب تک کا سب سے زبردست حملہ کیا۔انہوں نے

اپنے خطاب کا آغاز ضلع کے عظیم سپوتوں کو یاد کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے عظیم مجاہدین آزادی و ادیب پنڈٹ شیام رام نرائن پانڈے،مہان سماج سدھارک سوامی سہجانند سرسوتی،مؤ کو ترقی کی جدید پہچان دلانے والے سابق مرکزی وزیر آنجہانی کلپناتھ رائے اور سابق گورنر پھاگو چوہان کی پاک سرزمین کو کوٹی کوٹی نمن کیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھارت رتن چودھری چرن سنگھ کو ان کی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اننداتا کسانوں کے مفاد کیلئے چودھری صاحب کی خدمات ملک ہمیشہ یاد رکھے گا۔عوام کے ساتھ براہ راست گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے جمہوریت کی طاقت کی اہمیت سمجھائی۔انہوں نے کہاکہ جب آپ اچھے لوگوں کو چن کر بھیجتے ہیں تو ایک اچھی سرکار بنتی ہے اور جب اچھی سرکار ہوتی ہے تو وہ اپنے ساتھ بغیر کسی امتیازی سلوک کے ڈولپمنٹ لیکر آتی ہے اور تب ایک سڑک، اسپتال، پل یا سیلاب سیکورٹی کا کام ہوتا ہے تو وہ کسی کی ذات پوچھ کر فائدہ نہیں پہنچاتا۔اس کے بر عکس جب غلط لوگ منتخب ہوجاتے ہیں تو عوام کی گاڑھی کمار کے پیسوں پر ڈکیتی پڑتی ہے،بیٹیوں کا تحفظ خطرے میں پڑتا ہے اور نوجوانوں کے سامنے شناخت کا بحران کھڑا ہوجاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ڈبل انجن کی سرکار کے ذریعہ ضلع کیلئے جاری ترقیاتی کاموں کا ڈیٹا دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ 38 منصوبوں کی نقب کشائی اس میں سے خاص طور سے 10 بڑی سڑکیں، پل، پولیس دستہ کے بنیادی ڈھانچے سے منسلک 6 / اسکیمیں،دیہی پینے کے پانی کی 10/ ااسکیمیں،سرکاری پالیٹیکنک،غریب بچیوں کیلئے کستوربار گاندھی گرلس کالج اور سرکاری صنعتی ٹریننگ ادارے (ITI)شامل ہیں۔76 منصوبوں کی سنگ بنیاد جس کی تخمینہ لاگت 37 کروڑ سے بننے والی دیہی و مین سڑکیں،صحت، شہری ترقیات کی 6 اور ٹوریزم کو فروغ دینے والی 3 / اہم منصوبوں کی سنگ بنیاد رکھی۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران سپا سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں کی عمر آج 30-35 سال سے اوپر ہے وہ بھول نہیں سکتے کہ 21 سال قبل 2005 میں اسی مؤ کو دنگے کی آگ میں جھونکنے کی مذموم کوشش کی گئی تھی۔آستھا کے کیندر رام لیلا کے انعقاد میں رخنہ ڈالا جاتا تھا۔اس وقت کے اقتدار کے محافظ مافیا کے سامنے سرنگوں تھے۔ان کے سامنے پسینے چھوڑتے تھے۔غنڈے اور شہدے کھلے عام گھومتے تھے،بیٹیا ں اسکول نہیں جاتی تھیں اور تاجر سورج غروب ہونے سے پہلے ڈر کے مارے اپنی دکانیں بند کردیتے تھے۔اس دنگا اور کرفیو زد ماحول کے سبب ہمارے نوجوانوں کو پردیش کے باہر اپنی شناخت چھپانے کیلئے مجبور ہونا پڑتاتھا۔مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کو سخت ہدایات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے گرجتے ہوئے کہاکہ 2017 کے بعد اتر پردیش کا پرسیپشن پوری طرح بدل چکا ہے۔اب ریاست میں کسی مافیا یا غنڈے میں یہ حوصلہ نہیں ہے کہ وہ کھلی جیپ میں پستول لہراتے ہوئے کسی ہندو یا بے قصور شہری کو دھمکا سکے۔ان کا صاف طور پر اشارہ مختار انصاری کی طرح تھا۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی نے ہماری بیٹی یا تاجر کے تحفظ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا یا سینگھ لگائی تو اس کا سیدھے یمراج کے گھر جانے کا راستہ طے ہے۔ انہوں نے آگے کہاکہ اب اتر پردیش میں رام نومی،جنم اسٹمی،،رکشا بندھن، شیو راتری اور ماتا کی چوکیاں پوری خوبصوری کے ساتھ منائی جاتی ہیں۔اگر کسی نے ان تہواروں اور مذہبی انعقاد میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کی راون اور کنس جیسے حالت ہونا یقینی ہے۔وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعروں کو دوہراتے ہوئے کہاکہ ہماری سرکار کیلئے محض چار ہی ذات اہم ہیں غریب، نوجوان، خواتین اور کسان،اگر ان چاروں کی فلاح وبہبود ہوجائے تو بھارت کو دنیا کی عظیم طاقت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔انہوں نے سپا اور کانگریس کو کٹگھرے میں کھڑا کرتے ہوئے پوچھا کہ آخر کیوں ان کے دوراقتدار میں غریبوں کو 65 لاکھ پکے مکان نہیں ملے؟کیوں کروڑوں ماؤں بہنوں کو ٹوائلیٹ اور مفت راشن کیلئے ترسنا پڑا؟یہ سوال کانگریس اور سپا سے پوچھاجانا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ آج بغیر کسی سفارش کے اتر پردیش کے 10 کروڑ سے زائد ضرورتمندوں کو آیوشمان بھارت اور مکھیہ منتری جن آروگیہ اسکیم کے تحت مفت علاج کی گارنٹی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ کسان ایکسیڈنٹ بیمہ اسکیم کے تحت اگر کسی کسان یا بٹائیدار کے ساتھ کوئی انہونی ہوتی ہے تو ہماری سرکار کے نمائندے محض 24 گھنٹے کے اندر متاثرہ پریوار کے گھر جاکر 5 لاکھ روپئے کی امدادی رقوم سونپتے ہیں۔اس تقریب کے دوران اسٹیج پر شہری ترقیاتی وزیر اے کے شرما، جیل وزیر دارا سنگھ چوہان، سہیل دیو بھارتیہ سماج پار ٹی کے قومی صدر و کابینہ وزیر اوم پرکاش راجبھر، مؤ انچارج و کھیل وزیر گریش چندر یادو، مدھوبن ایم ایل اے رام ولاس چوہان، ایم ایل سی بچھے لال راجبھر،وکرانت سنگھ ریپو، ضلع پنچایت صدر منوج رائے اور بھاجپا کے ضلع صدر رام آشرے موریہ سمیت کثیر تعداد میں علاقائی نمائندگان،انتظامی افسران اور ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

