قربانی کا اصل فلسفہ
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے درمیان ہونے والی وہ عظیم گفتگو ہے جس میں اطاعت صبر رضا اور اللہ کے حکم کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنے کا درس ملتا ہے
دنبہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام اور بدل تھا مگر افسوس کہ ہم اکثر اصل پیغام بھول کر صرف ظاہری رسموں تک محدود ہو جاتے ہیں
قربانی کے وقت یہ ضرور سوچیں کہ
ہماری نیت کتنی خالص ہے؟
ہمارے دل میں تقویٰ اور اخلاص کتنا ہے؟
ہم نے اپنے گوشت میں سے کتنا حصہ ضرورت مندوں غریبوں اور حقداروں تک پہنچایا؟
اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ جانور کا بڑا یا چھوٹا ہونا اہم ہے اور نہ ہی دکھاوا بلکہ اصل اہمیت دل کے تقویٰ، اخلاص اور جذبۂ قربانی کی ہے
آئیے اس عید الاضحیٰ پر سنتِ ابراہیمی کے حقیقی پیغام کو اپنائیں، محبت ایثار اور خدمتِ خلق کو فروغ دیں۔
محمد تنظیم قاسمی سنبھلی

